Search

غالب اور اقبال کے بعد، اردو کا ایک بڑا مفکر : رشید احمد صدیقی

Updated: Jun 24

جی چاہتا ہے ہمارے بڑے، جو کچھ قابل قدر ذہنی/فکری سرمایہ ہمارے لئے چھوڑ گئے ہیں، وہ سب دھیرے دھیرے ہم آنے والوں کو منتقل کرتے رہیں: وہ سب، جو مدت سے نظروں سے اوجھل ہے۔

یہ پیشکش، اس ضد (یا ہٹ دھرمی!)کے ساتھ کہ اردو نے غالب اور اقبال کے بعد اتنا بڑا مفکر پیدا نہیں کیا، اس دعوی پر اضافہ کیجیے کہ مندرجہ ذیل فکر افکار کا ایک ایک جملہ خود آپ کی فکر کو مہمیز کرکے آپ کے اندر نئے افکار پیدا کر رہا ہے! (یا نہیں!)۔

جہاںجہاں سے یہ مواد لیا ہے، وہاں وہاں، بغیر اصل فکر میں کچھ دخل اندازی کیے ہم کچھ ایڈٹ بھی کرتے چلے ہیں : یہ ہوئی پہلی بات۔ دوسری بات یہ کہ اسے تسلسل کے ساتھ پڑھنے کی کوشش نہ کیجیے، بلکہ الگ الگ نثری اشعار سمجھ لیجیے تبھی لطف آئےگا۔

رشید احمد صدیقی مزاح نگار کی حیثیت سے تو خوب متعارف ہیں؛ مندرجہ ذیل کو رشید احمد صدیقی کی طرف منسوب پاتے ہوئے، بلکہ ان تحریروں کو اُن کی تحریریں مانتے ہو، شاید آپ کو کچھ تردد ہو،کچھ عجیب سا لگے:جنہیں پڑھتے پڑھتے آپ پہلے حیرت زدہ ہوں گے، پھر خوشی کا احساس ہوگاکہ یہ رشید صاحب کے، دانشوری سے بھر پور نکتے، آپ کے ذہن کو کیسا روشن سے روشن تر کرتے جارہے ہیں۔

یہ نکتے رشید صاحب کی ان گنت تحریروں میں جا بجا بکھرے ہوئے تھے۔ جنہیں سمیٹنا اور سمیٹ کے یکجا کرنا، اور یکجا کرکے آپ کی خدمت میں ان کی پیشکش سے ہمیں فخر و امتنان کا احساس ہو رہا ہے کہ :

ع ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی!

یہ بات اپنی جگہ ، کہ طنز و مزاح نگاروں کا سرِ خیل مانا جانے والا ادیب ایک طرف؛ اور مندرجہ ذیل نکات کا لکھنے والا دوسری طرف : کیا یہ دونوں اردو کے اس بڑے ادیب کے یہاں بہ یک وقت پائے جا سکتے ہیں! اور کیا پڑھتے پڑھتے، اخیر تک آتے آتے،کوئی بھی یہ ماننے کے لئے تیار ہوگا کہ مندرجہ ذیل نکتوں کا مصنف بھی وہی ہے جس کے ہاتھ پر اردو کی مزاح نگاری مدت دراز سے بیعت کرتی رہی ہے۔

ہم نے ان افکار کا عنوان ”غالب اور اقبال کے بعد اردو کا ایک بڑا مفکر رشید احمد صدیقی“ قرار دیا ہے، بلکہ ہم مبالغہ کی قیمت پر لکھنا چاہتے تھے کہ ”سب سے بڑا مفکر“۔ پھر خیال آگیا کہ مبالغہ کا الزام اپنے سر کیوں لیں، پہلے آپ پڑھ لیں تو پھر اس پر گفتگو ہو!

شخصیت عطیہ الہی ہے جو ریاضت اور انتظار سے جلا پاتی ہے۔ شخصیت کا کارنامہ یہ ہے کہ وہ معمولی کو غیر معمولی بنادے۔
عمر کا وہ دور کتنا مسعود اور کتنا عجیب تھا جب اچھے اور بڑے کاموں کے لئے جیتے رہنے، اور جان دینے دونوں کی یکساں خوشی ہوتی تھی۔
اچھے مسلمان اور اچھے انسان کو میں نے ہمیشہ ایک دوسرے سے اتنا قریب پایا کہ کم سے کم میرے لئے ان میں امتیاز کرنا دشوار ہو گیا ہے۔
وہ آفرینندہ عہد تھے اس لئے ان کی کشمکش ایسے لوگوں سے ہوتی جو زائیدہ عہد ہوتے۔
جو شخص ہار جیت میں اپنا سہارا خود ہو، اس کو کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
زندگی میں طرح طرح کے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے اکثر محسوس ہوا کہ مخاطب میں کہیں نہ کہیں کوئی خامی ہے۔ کوئی بڑا مخلص ملا تو اتنا ہی ثقہ اور روکھا پھیکا۔ کوئی ہنسنے ہنسانے والا ہوا تو یہ محسوس ہوا کہ اس میں گنوار پن بھی ہے۔ کوئی عالم فاضل ہوا تو اس میں نخوت، تنگ نظری اور کم ظرفی بھی کسی نہ کسی حد تک پائی گئی۔ اللہ والے ملے تو انھیں دنیا کے کام کا نہ پایا۔ کسی منکرِ یزداں کو ایسا نہ پایا جو کچھ اور نہیں رسول کی شرافت اور عظمت کا تو قائل ہوتا!
ہر شخص کسی نہ کسی وظیفہ، عبادت یا مشن کے لئے خلق کیا گیا ہے جس کے مطابق اس مین استعداد ودیعت کی گئی ہے۔ اس کا فرض ہے کہ وہ اپنا مشن یا اپنی عبادت دریافت کرے اور اسے پورا کرے۔ اسی عبادت میں اس کی نجات مضمر ہے۔
مذہبی آدمی کو بالعموم اچھا انسان نہ پایا۔ مذہبی آدمی اکثر عقائد کی خانہ پری کرکے اعمال کی طرف سے بے فکر ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ بات نہیں سمجھنا چاہتے کہ خدا نے اپنی نجات انسانوں کے سپرد نہیں کی ہے بلکہ انسانوں کی نجات انسانوں کے سپرد کی ہے خدا نے عقائد و عبادات کو خدمت خلق کے رستے سے نازل کیا ہے اور اسی معیار سے وہ ان کو پرکھے گا۔ عقائد اور اعمال کو یہ لوگ علحدہ علحدہ خانوں میں بانٹ دیتے ہیں حالانکہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ خدا کا فرمان اور منشا علحدہ علحدہ خانوں میں نہیں بٹا ہے۔
انسان انسان ہی نہیں خدا بھی ہے۔ اس کو دوسروں پر نہیں اپنے اوپر خدائی کے لئے خدا نے بھیجا ہے اس لئے انسان مجبور نہیں مختار ہے ۔ مختار اس کو نہیں کہتے کہ جو چاہے کر ڈالے۔ مختار وہ ہے جو اپنی اچھی استعدادوں کو پورے طور پر اور آخر تک برسرکار لا سکے خواہ وہ استعداد معمولی ہو یا غیر معمولی۔ اس کے بعد ہر انجام انعام بن جاتا ہے خواہ وہ المناک ہی کیوں نہ ہو۔
مجھے اچھا کھانے، اچھا پہننے اور تن آسانی کی زندگی پسند نہیں۔ یہ باتیں دراصل عورتوں اوربچوں کو زیب دیتی ہیں۔ مجھے اپنے اوپر وقت، دولت، راحت اور اس قبیل کی دوسری چیزیں صَرف کرنا شاق ہوتا ہے۔
کام کرنا وہ نشہ ہے جس میں نہایت آسانی سے ہر طرح کے مصائب غرق کیے جا سکتے ہیں۔
اچھی گفتگو پروگرام کے ما تحت نہیں ہوا کرتی۔
مجھے زندگی میں ایک چیز کی بڑی تمنا رہی جو میرے اطمینان کے مطابق پوری نہ ہوئی یعنی یا تو میرے پاس اتنی دولت ہوتی کہ میں حاجتمندوں کی اپنے حوصلہ یا اطمینان کے مطابق مدد کر سکتا، یا میرا ایسا کوئی دولتمند دوست ہوتا کہ جب کبھی اس قسم کی ضرورت پیش آتی تو وہ میری خاطر سے پورا کر دیتا۔
ہندستانی مسلمانوں میں مقتدی سے زیادہ امام پیدا ہونے لگے ہیں۔ وہ نماز کے اتنے قائل نہیں رہے جتنے جانماز کے۔ وہ بیماری کو علاج، صبر و پرہیز سے دور کرنے کے بجائے اس کو پروپیگنڈا بنانا زیادہ مفید سمجھنے لگے ہیں۔
مجھے دربار داری سے سخت نفرت ہے۔ دربارداری کے وہ لوگ محتاج ہوتے ہیں جو خود اپنی نظروں میں حقیر ہوتے ہیں اور اس ذہنی عذاب سے بچنے کے لئے دوسروں کا سہارا ڈھونڈتے ہیں، اپنا نفس لعنت بھیجتا ہے تو کرایہ کے قصیدہ خواں اپنے گرد جمع کر لیتے ہیں۔
جب تک آپ کے دل میں کسی بڑے عقیدہ، ارادہ، مقصد یا شخصیت کا احترام اور اس سے بے لوث شغف نہ ہو گا آپ اپنے لیے کسی مصرف کے رہیں گے نہ کسی دوسرے کے لیے۔
آدمی فرشتوں ہی کے لکھے پر نہیں پکڑا جاتا، اپنے لکھے پر اور زیادہ پکڑا جاتا ہے۔ اور کیا معلوم فرشتوں کا نام کسی مصلحت سے لیا جاتا ہے! ورنہ دراصل ہمارا نامہ¿ اعمال ہمارے سوا کوئی دوسرا لکھ ہی نہیں سکتا، چہ جائیکہ وہ صرف فرشتہ ہو۔
مذہب کو روزی کمانے، جہالت پھیلانے، اور فتنہ اٹھانے کا وسیلہ بنانے کے بجائے فہم وبصیرت، حوصلہ مندی اور انسانیت دوستی کا محرک اور ترجمان بنانے پر زور دینا (ہے)۔
ہر تباہی اپنی تلافی بھی ساتھ لاتی ہے۔ اتنی بڑی تباہی اتنا ہی بڑا شخص پیدا کر سکتی تھی۔
فنون لطیفہ اور اس کے عوارض و عواقب کو اگر اسلامی شریعت نے زندگی میں وہ اہمیت یا وقعت نہیں دی ہے جو آج کی دنیا دے رہی ہے تو شرمانے کی ضرورت ہے نہ معذوت خواہ ہونے کی۔ مسلمان جن فرائض مہمہ اور عزائم حسنہ کے تقاضوں میں جکڑا ہوا ہے وہاں ع فرصت کار دبار شوق کسے۔ یا ع شور سودائے خط وخال کہاں۔
زیادہ سونا اور زیادہ کھانا نحوست اور بد توفیقی ہے۔ یہ حرکتیں صرف مریضوں کے لیے روا رکھی جا سکتی ہیں۔ دنیا اور اس کے کاروبار اتنے دلکش ہیں اور ہر آن انسان کو بہتر اور بد تر بنانے میں اس درجہ معاون ہوتے ہیں کہ میں سونے میں ان کو کھونا گوارا نہیں کر سکتا۔ سونا محض سونے کی خاطر میرے نزدیک فعل عبث ہے۔ دنیا کو دیکھنے اور برتنے میں جو لطف اور ذمہ داری ہے اس کو آدمی سمجھ لے تو میرا خیال ہے وہ بغیر اشد ضرورت کے کبھی سونے پر آمادہ نہ ہو۔
خدا کا مقصدنہ جنت دوزخ ہے، نہ ہم تم۔ وہ خود مقصد ہے۔
بچہ اپنی عاقبت شاید ہی ساتھ لاتا ہو۔ اکثر و بیشتر اس کے والدین اپنی عاقبت بچے کے سر منڈھ دیتے ہیں۔
انسان دوستی بغیر وطن دوستی ایک واہمہ، اور وطن دوستی بغیر انسان دوستی ایک مغالطہ ہے !
کوئی مہم آج تک فرزانوں سے سرزد نہیں ہوئی اس کے لئے دیوانوں ہی کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
کوئی زبان بدیسی نہیں اگر وہ دیس کے کاموں کے لیے مفید وکارآمد ہو۔
اب محسوس کرتاہوں تہذیب وشرافت بھی دنیا میں کتنی بڑی نعمت ہے، اس لیے ذمہ داری ہے۔
اخلاق مذہب کی عملی شکل ہے۔ مذہب سے علحدہ ہوکر اخلاق پر زور دینا ان لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے جن کی نیت بالعموم بخیر نہیں ہوتی۔
وہ اتنے اچھے تھے، اتنے ارزاں اور اتنے ناگزیر!
اکثر یہ بات ذہن میں آئی ہے کہ مذہب بالخصوص اسلام جیسے مذہب کی پیروی کے لیے جس احساس ذمہ داری اور احترام انسانیت کی ضرورت ہے وہ ایسے لوگ کیسے پورا کر سکتے ہیں جو زندگی میں نہایت درجہ معمولی ذمہ داریوں کو بھی سمجھنے اور نباہنے کی توفیق نہیں رکھتے۔ دنیا و عقبیٰ زمان و مکان زندگی ہی کے دو رخ ہیں اور انسان کے نتائج اعمال ہی کا نام عقبیٰ ہے .... جو شخص دنیاوی ذمہ داریوں سے خوش اسلوبی سے عہدہ برا ٓ نہیں ہو سکتا وہ عقبیٰ میں بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔
ادھر کچھ عرصے سے ہمارے طبقہ میں جس نااہل کو نفع یا نمود کی کہیں گنجائش نہیں نکلتی وہ اس مقصد کے لیے مذہب کو آلہ بناکر ملک وملت کا محسن بن جاتا ہے۔
حکومت کیسی ہی ہو، آزادی اور تندہی سے قوم کی خدمت کا کام حکومت سے باہر ہی رہ کر زیادہ موثر طور پر انجام دیا جا سکتا ہے۔
بعض پھول ایسے ہوتے ہیں جو سایہ سے زیادہ دھوپ میں اپنی پوری بہار دکھلاتے ہیں۔
علم نہایت ہی خطرناک چیز ہے۔ کم ذی علم عالم ایسے پائے گئے ہیں جنھوں نے علم سے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے ساتھ ہی نقصان نہ پہنچایا ہو۔
علم، مذہب اور آزادی باوجود بہترین نعمت ہونے کے، نا اہل سو سائٹی میں بڑے خطرناک ہیں۔
اکثر ایسے عالم دیکھے گئے ہیں جو صرف علم کا بیو پار کرنا جانتے ہیں۔ علم کا مفہوم میرے نزدیک جاننا پہچاننا ہی نہیں، جاننے پہچاننے کی ذمہ داری بھی ہے۔
زندگی کا یہی دستور چلا آرہا ہے اور رہتی دنیا تک اس میں کوئی فرق نہ آئے گا۔دنیا کا کارو بار اور آپس کا نقصان اتنا پیچیدہ اور پھیلا ہوا ہے اور پیٹ پالنے، جان بچانے، عزت پانے، لذت اٹھانے، نام اچھالنے اور روزمرّہ کے معمولات ادا کرنے کا جذبہ اتنا قوی اور عالمگیر ہے اور ان کی ہمہ وقت اتنی دیکھ بھال رکھنی پڑتی ہے یا وہ ہمہ وقت ہماری اتنی دیکھ بھال رکھتے ہیں کہ ہم کسی حادثے کو اپنے اوپر زیادہ دیر تک مسلط نہیں رکھنا چاہتے اور رکھ بھی نہیںسکتے۔ دنیا کا سب سے عجیب پہلو یہی ہے کہ وہ موت کو زندگی کا سب سے بڑا حادثہ ثابت نہیں ہونے دیتی بلکہ زندگی کا سب سے بڑا انعام بناتی ہے، ایسا انعام جو ہر محرومی کی تلافی کرتا رہتا ہے، ایسا انعام جو بے بود اور غیر متعین ہونے کے باوجود بڑے سے بڑے عالم اور عامی کے دلوں کو مسخر کیے ہوئے ہے۔ زندگی کی ہما ہمی اتنی مہلت ہی نہیں دیتی کہ کوئی شخص موت کے عمل دخل پر زیادہ دیر تک غور کر سکے۔
آپ اس کا غم کیوں کریں کہ آپ جتنا کچھ کر سکتے تھے وہ نہ کر سکے۔ غم اسے ہو جس نے ایسا ہونے نہ دیا۔ جب تک ارادہ اور عمل آپ کے بس میں رہا اپنے فرائض ادا کرنے میں کوتاہی نہ کی بلکہ فرض سے زیادہ کر دکھانے کے آرزو مند رہے۔ جب آپ کو یا مجھے کار آمد و کار آفریں رکھنے کے بجائے معطل و معزول کر دیا گیا تو ہمارا کیا قصور۔ اور جب ہمارا قصور نہیں تو انجام کچھ ہی ہو زندگی کی مہم میں فتح ہماری رہی۔
مجھے تو اس مسلمان جنرل کی ادا پسند آئی جس نے یہ عہد کیا تھا کہ جہاں تک خشکی ملے گی وہ خدا کے نام پر فتح کرتا چلا جائے گا۔ فتح کرتے کرتے خشکی کا حصہ ختم ہوگیا تو اس نے گھوڑے کو پانی میں ڈال دیا اور کہا: بار خدایا: خشکی ختم ہوگئی، میرا عہد بھی ختم ہوتا ہے.... اللہ کے ساتھ اس کے سپاہیوں کا بھی یہی معاہدہ ہوتا ہے۔
وہ اپنے الطاف واکرام کا پورا اندوختہ کامل اعتماد اور افتخار کے ساتھ پہلے ہی بار ہر اس شخص پر لگا دیتے تھے جس کو اس کی ضرورت ہوتی۔
دولت اور فراغت سے اشخاص بدلتے نہیں بے نقاب ہوتے ہیں۔
زندگی اپنا چولا افراد میں بدلتی ہے جماعت میں نہیں۔
انھوں نے اپنے نفس کا اعتماد کچھ اس طرح حاصل کر لیا تھا کہ وہ اس کی آسودگی کے لیے کچھ کریں یا نہ کریں وہ ان سے راضی اور خوش رہتا۔ آخر آخر میں تو کچھ ایسا محسوس ہونے لگا جیسے ان کے نفس نے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہو۔
انسان موت کے ہاتھ میں کھلونانہیں ہے۔ ہم میں ایسے اکابر گزرے ہیں، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی آتے رہیں گے جن کے ہاتھ میں موت کی حیثیت کھلونے کی رہی ہے۔ انسان اپنی شکست میں زندہ رہتا ہے۔
دنیا کیا چیز ہے، زندگی کا کیا مقصد ہے، انسان کیوں پیدا کیا گیا، مرنے کے بعد کیا ہوگا، ان باتوں نے مجھ میں کبھی تجسس پیدا کیا نہ تشویش۔ شرافت، خوشدلی اور بہادری سے رہنا ان سب کا جواب ہے۔
مقاصد جلیلہ: انسان کی زندگی، اس کے مقاصد کی زندگی سے کم ہوتی ہے۔ وہ کتنی طویل عمر کیوں نہ پائے بالآخر مرے گا۔ بڑے مقاصد کی بھی زندگی ہوتی ہے لیکن ہوتی ہے ہماری آپ کی زندگی سے علحدہ، جس پر کبھی موت نہیں طاری ہوتی۔
مدت حیات کا حساب کتاب سال اور ماہ گزرنے سے نہیں کرتے، عزیزوں کی مفارقت سے بھی کرتے ہیں۔ عمر چاہے جہاں تک پہنچے عمر پانے کو زندہ رہنا نہیں کہتے۔ زندگی اپنی زندگی سے اتنی عبارت نہیں ہوتی جتنی عزیزوں کی زندگی اور خوشی سے ہوتی ہے۔
اگر انسان موت کو تسخیر نہیں کرسکا ہے تو موت بھی انسان کے ان کارناموں کو نابود یا بے نور نہیں کرسکی ہے جو موت سے زیادہ عجیب و عظیم مانے گئے ہیں۔ وہ انسان کو تسخیر بھی کس طرح کرسکتی ہے جب انسان سوا ازلی وابدی ہونے کے ان صفات سے بھی کسی نہ کسی درجہ میں متصف ہے جو خدا کے صفات ہیں۔ اور کیا معلوم بعض تو یہاں تک کہتے ہیں کہ انسان خدا میں ازلی اور ابدی بھی ہے۔
موت مامور و مجبور ہے! وہ کتنا ہی چاہے اپنے کو بدل نہیں سکتی۔

٭

رشید احمد صدیقی کی خاصہ¿ اول کی فکر آپ کے ملاحظہ میں آئی۔ اب کچھ خاصہ¿ دوم بھی:

اس پیشکش کاعنوان ہم’کتابدار کی میز سے‘ دینا چاہتے تھے۔ اور یہ اس لیے دینا چاہتے تھے کہ مصنفوں پر اور کتابوں پر، اور خاص کر افکار و خیالات پر کئی وجوہ سے جو ستم رانیاں ہوئی ہیں،گاہے گاہے ان کی کچھ تلافی ہوجائے۔

کتابوں کی قدر وقیمت آنکنے کا فرض منصبی اب کتابداروں کی ذمہ داری ٹھہری۔ مگر آج کے کتابدار کو اتنی فرصت ہی نہیں ملتی کہ فضول کاموں کے نبٹنے سے سر اٹھا سکے۔ نہ اسے کتابوں کو، مغل کتابداری کی اصطلاح میں، خاصہ¿ اول یا خاصہ¿ دوم ٹھہرانے کی اہلیت، نہ آس پاس کے اکابر کو اس کی ضرورت! پڑھنے کیا کتاب کو سونگھنے کا بھی وقت نہیں ملتا، چہ جائیکہ اچھی کتابوں کو، پڑھنے والوں کے علم میں لانا، اور انھیں پڑھوانا، اچھی اور بڑی کتابوں کے پڑھنے کی ترغیب دینا! نتیجہ میں، بھائی رنگا ناتھن کراہتے رہ جاتے ہیں، کہ ارے میرے کتابدارو! میری سنو! ہر کتاب کا کوئی نہ کوئی پڑھنے والا کبھی نہ کبھی میسر آہی جاتا ہے: اگر وہ آنکلا تو پھر کہاں سے کتاب میسر کراو¿گے۔ اس لئے کتاب کو ویڈ آو¿ٹ (wead out) کرنے میں بھی احتیاط کرو اور مصنف کی طرح ریڈر کو بھی پہلی فرصت میں خارج ہرگز نہ کرو ، خاص طور سے خاصہ¿ اول کے مصنف اور ریڈر!

قدیم مضمون میں انگنت قیمتی، بہت قیمتی، اور کبھی کبھی بہت زیادہ قیمتی کتابیں اور نکات چھپے پڑے رہتے ہیں، (ہم کبھی کبھی اس صورتحال کے لئے مدفون کا لفظ استعمال کر لیتے ہیں)، اب یہ کسی جاگرت کتابدار کا فرض ہے کہ وہ ان قیمتی کتابوں کو ان کے صحیح قدردانوں تک پہنچا دے۔ تاکہ دو دفتیوں یا ایک سی ڈی میں محفوظ کسی غریب مصنف کا سارا ذہنی سرمایہ جس پر کبھی کبھی اپنی ساری عمر صرف کی ہوگی، ضائع نہ جائے۔

کتابوں کی طرح، ان میں محفوظ خاصہ¿ اول کے افکار بھی اسی صورتحال کا شکار ہیں ۔ اول تو خاصہ¿ اول پہچاننے کی فرصت ہی کسے! اور فرصت ہو تو پہچنوانے کی جسارت، جرا¿ت یا سکت کسے!

تمہید لمبی ہوگئی۔ کہنا بس یہ ہے کہ ہر جگہ کی طرح ادب میں بھی ناانصافیاں اور ستم رانیاں ہوتی رہی ہیں؛ اور اگر خاصہ¿ اول کے کچھ افکار، منصفی کی راہ تکتے تکتے تھک کے چور ہورہے ہوں، ایسے میں انصاف کی ترازو کسی کتابدار کے ہاتھ لگ جائے، اور وہ خاصہ¿ اول کے پڑھنے والوں کے سامنے کوئی ایسی چیز پیش کردے تو، نہ بدکنے کی ضرورت ہے نہ حیران و پریشان ہونے کی۔ آخر کو خدائے علیم و خبیرجس طرح اپنے علم کی پرتیں آہستہ آہستہ اپنی مخلوق پر کھولتا جاتا ہے، تو ہم ان سے آنکھیں کیسے موند لیں!

یہی صورتحال ان کتابوں میں محفوظ افکار و خیالات کی ہے، جن کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا۔ تو،منصفی خدا کی صفت رہی ہے تو اس کریم وبصیر نے اپنی صفات کے کچھ ریزے انسانوں کے حقیر دلوں کے اندر بھی ڈال دیئے ہیں! تو چلیں کچھ دیر اور، ہمارے ساتھ، بلکہ رشید احمد صدیقی کے ساتھ : جن کے خطوط کے ایک مجموعہ سے یہ فکر انگیز جواہر پارے :

شخص ہمیشہ شاعر سے بڑا ہوتا ہے، شاعرانہ شخصیت جز ہے کل نہیں۔
مسز نائیڈو مرحومہ کے دل میں شریفوں کے لیے کیسی محبت اور گرمی تھی، ادھر یہ بات اکثر ذہن میں آتی تھی کہ یہ گورنری سے سبکدوش ہوں تو ان کے اور قریب ہوجاو¿ں اور ان کی کوئی خدمت کروں، یہ ہوئیں، ذاکر صاحب ہوئے، سرسپرو ہوئے، آپ ہوئے ان سب کا خیال آتا ہے تو شعر و ادب کا ذوق کیسا شریفانہ اور مہتم بالشان معلوم ہوتا ہے، جیسے کہ میں بھی بُرا نہیں رہا۔
پانی ہر گز سر سے نہیں گذرا ہے تا وقتیکہ ہم خود سر نہ نیہوڑا تے جائیں، پھر ٹخنوںتک بھی پانی ہو تو ہم اپنے آپ کو ڈبو لیں گے۔
آپ یقین مانیں کہ جس ہندو قوم میں مہاتما گاندھی اور جواہر لال رہے ہوں وہ قوم سمپورنانندوں سے جلد داغدار نہیں ہوسکتی! آپ مجھے سمپورنانندوں اور عبدالماجدوں میں نہ پھنسائیے، مجھے تو خدا کے سامنے گاندھی جی سے آنکھ ملانے کی تیاری میں مبتلا ہرنے دیجئے، گاندھی جی نے ہندوستان کے مسلمانوں کو بڑی سخت آزمائش میں ڈال دیا ہے، آپ کیا سمجھتے ہیں، حشر کے دن جب خدا مجھے بلا کر کہے گا کہ تیری قوم کے لئے گاندھی نے میرے نام پر جان دے دی، تو نے میرے نام پر گاندھی کی قوم کے لئے کیا کیا تو میں کیا کروں گا۔ اور تُف ہے اس ہندستانی مسلمان پر جس سے خدا یہ سوال کر ے گا۔
مسلمانوں کے دل میں ہندو¿وں کے خلاف اور ہندووں کے دل میں مسلمان کے خلاف کینہ پیدا کرانا یا اس کی پرورش کرنا ادبی بدکرداری کے علاوہ بڑی ادنیٰ درجہ کی خود پرستی ہے۔
اپنے بدترین دشمن کو بھی اس کے مرجانے کے بعد معاف کردینے کے لئے آمادہ رہتا ہوں، آپ سے کہیں زیادہ میں نے ڈاکٹر ضیاءالدین مرحوم کے جور سہے ہیں لیکن اب میں نہیں چاہتا کہ ان کا تذکرہ بُرے الفاظ میں کیا جائے۔
آپ نے کچھ اور باتیں لکھنے کے بعدیہ فقرہ لکھا ہے، آپ (یعنی میں) خالص ادب کے پرستار ہیں، میں (یعنی آپ) ادب برائے زندگی کے ۔۔۔۔ آپ نے مجھے غلام امام شہید یا نوح ناروی کیوں سمجھ لیا ہے، ادب برائے زندگی ترقی پسندوں کے نزدیک دو حقیقتیں ہوں گی، پیغمبروں کے یہاں ایک ہی چیز ہے، آپ میری پیغمبری پر ہنس پڑیں گے، آپکا ہنسنا ٹھیک ہے ،لیکن میں پیغمبر نہ ہونے پر بھی پیغمبری کا قائل ہوں۔۔۔ آپ جس چیز کو ادب برائے زندگی کہتے ہیں، در اصل زیادہ سے زیادہ ادب برائے تحریک ہے۔
میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ جن سے ہماری بہت کچھ امیدیں وابستہ تھیں، مصیبت کا علاج مسکراہٹ سے کرنے لگے ہیں۔
میرا علی گڑھ سر سید کے عہد سے قریب تھا اور آپ کاعلی گڑھ سر سید کے عہد سے بہت دور آگیا ہے۔ ( یہ فقرہ آج سے ۷۳ سال پہلے علی گڑھ کے لئے رشید صاحب لکھا تھا!)
علم کی کمی خلوص سے پوری ہوجاتی ہے، خلوص کی کمی کبھی علم سے پوری نہیں ہوتی۔
علی گڑھ عجیب جگہ ہے، یہاں اونٹ کروٹ نہیں لیتا، کروٹ اونٹ کا انتخاب کرتی ہے۔
کیسا کیسا موسم گذر گیا: جب کچھ اور نہیں [تو] اچھا سا فقرہ ہی کہنے کو جی ہوتا تھا۔
ایٹم بم سے کیوں لوگ اس درجہ خائف ہیں جب دنیا میں ایسی وبا پھیل چکی ہے، جس کو ہندو، مسلم اور سکھ کہتے ہیں۔
اکثر سوچتا ہوں ہندستان ایسے گھٹیا ملک میں اتنی بڑی شخصیت کیوں کر جلوہ گر ہوئی، اس ہنگامے میں ان کی بہادری، بے جگری اور بے لوثی کے افسانے کتنے سنے گئے، لیکن میرے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جب اس شخص کے قلب کی انتہائی گہرائی سے آنسو کلمے بن کر نکلتے ہیں، درندوں کے ہجوم میں پہنچ کر جب وہ کہتا ہے ”اے لوگو! کیا اسی دن کے لیے ہم سب نے پچیس تیس سال تک زندگی کی تلخیوں کو جھیلا ہے“، تو میرے سامنے اس شخص کی پوری زندگی آجاتی ہے، جب اس نے نفس کے ہر مطالبے کو ملک کی برتری اور بہتری کے لیے اپنے ہاتھوں سے پھونک کر خاکستر کیا ۔
جو باتیں آپ کی فرمائش پر آپ ہی کے لیے کہی جائیں ان پر عمل نہیں تو کبھی کبھی ان پر غور کر لیا کیجئے۔ غور کرنے اور عمل کرنے کے درمیان فاصلہ بہت کم بھی ہوتا ہے اور بہت زیادہ بھی۔
انسانیت کی دنیا بڑی تیزی سے سائنس اور ٹیکنالوجی کی فتوحات اور کرامات کے سامنے پسپا ہوتی چلی جا رہی ہے، جس سے زندگی ایک عالمگیر ہر اس، ہلچل اور بے یقینی کا شکار ہے۔
اس کا مطلق خیال نہ کریں کہ اتنا بڑا کام اتنے چھوٹے پیمانے پر اپنے محدود ذرائع اور وسائل سے کس طرح شروع کیا جا سکتا ہے۔ اچھے کام کو مشکل یا معمول سمجھ کر نہ کرنا اور بُرے کام کو آسان اور نفع بخش جان کر کرنا اور کرتے رہنا بڑی ناسمجھی بلکہ بزدلی کی بات ہے جو کسی طرح نوجوانوں کو زیب نہیں دیتی خاص طور پر آپ علی گڑھ کے طالب علموں کو۔ اچھے سے اچھے اور بڑے سے بڑے کاموں کو شروع کرنے اور کامیاب بنانے والے اکثر و بیشتر شخص اور فرد ہوا کیے ہیں، جماعتیں اور ادارے بعد کی باتیں ہیں۔
تاریخِ یادداشت میں کسی سرزمین نے شاید ہی ایسا کوئی گراں قدر اور نمائندہ نقشِ بدیع چھوڑا ہوا ہو جیسا اردو کی شکل میں ہندوسان نے پیش کیا ہے۔
صلح جوئی یا مفاہمہ کو قطعا خیر باد کہا جائے اور قطعی طور پر یہ رویہ اختیار کیا جائے کہ اردو کی اشاعت اور اس کا تحفظ خالص مذہبی اور تمدنی فریضہ ہے جس کو مسلمان کسی قیمت پر نظر انداز نہیں کریں گے۔
ایک نامور خاندان کے برخود غلط فرد نے ایک ایسے شخص سے جو خاندانی افتخار کی رو سے فرو تر تھا غرور اور طنز سے اس کا حسب و نسب دریافت کیا۔ اس نے جواب دیا ”آپ کا حسب نسب آج ختم ہوگیا۔ میرا آج سے شروع ہوتا ہے“۔
بڑے آدمی صرف بڑے آدمیوں کی باتیں در خور اعتناءسمجھتے ہیں۔
بندھے ٹکے عقائد سے قطع نظر شرافت اور وضع داری میں وہ (مالک رام) بہت سے مسلمانوں سے بہتر انسان ہیں۔
جو ہونے والا تھا وہ ہو چکا اور جو ہونے والا ہے وہ ہوکر رہے گا۔ ہمارے رنج و الم سے کیا ہوتا ہے۔
میں تو تمام عمر یونیورسٹی کے گنبد سے باہر نہ نکلا لیکن جو کچھ دیکھا، سنا اور پڑھا وہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد کوئی کسی کو نہیں پوچھتا۔ اپنے بیوی بچے نہیں خیال کرتے تا بدیگراں چہ رسد! دنیا کا یہی شیوہ ہے اور ٹھیک ہے۔ مرنے والے کی یاد مناتے اور یاد گاریں بناتے رہیں تو دنیا رہنے کی جگہ نہ رہ جائے۔ اس لیے قانونِ قدرت کا احترام کرنا چاہیے.... زندہ رہنا ہے تو وہ اپنے کلام میں رہیں گے۔ ہم آپ ان کی عینک بٹوہ کب تک رکھیں گے۔
آدمی کو آب و دانہ یا خاکِ گور کھینچتی پھرتی ہے۔ میرے لیے دونوں یہیں مقدر ہوچکے ہیں اس لیے کہیں آنا جانا نہیں ہوتا۔
کہا تو یہ جاتا ہے کہ اردو ہندو مسلم دونوں قوموں کی مشترکہ زبان ہے لیکن اس کے ادب میں ہندو معاشرت ومذہب کے، جس کا ایک قوم کی زبان کو امین و محافظ ہونا چاہیے، کہیں نام و نشان نہیں ملتا۔
اگر اردو کی ترقی منظور ہو اور اسے بجا طور پر مشترکہ زببان کا نام دینا ہے تو ہندوو¿ں کے ادبی کارناموں کو دور بدور تاریخ میں لایا جائے۔ ان کی تصانیف کو عام کیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اردو کے حق میں اچھا نہ ہوگا۔
یقینا اردو کو علاقائی زبان بننے میں اتنی رکاوٹ نہ ہوتی اگر میر، سودا، آتش، ناسخ، مومن، آزاد، شبلی، حالی، سرسید وغیرہم کے ساتھ ہر دور میں اردو کے ہندو ادبی خدمت گزاروں کے نام بھی ادب و شعر میں باقی رہ جاتے اور ان کی تصانیف بھی۔
جب دنیا بھر کے ادب میں سے صرف دو سو صفحے [منتخب] کرنا ہے تو جو چیز لی جائے وہ formاور contentدونوں کے اعتبار سے بلند ہونی چاہیے اور ساتھ ہی اس میں نوجوانوں کے لئے کشش ہونی چاہیے۔ محض یہ دلیل ہی کہ’اعلیٰ ادب‘ میں شامل ہے کافی نہیں۔
لکھتے لکھتے کبھی تو یہ خیال ہوتا ہے کہ کیا لکھوں اور کبھی یہ کہ کیا کیا نہ لکھوں۔
ترقی پسند جب غالب کو اپنا لیں تو مجھ کو ترقی پسند ہونے میں پس و پیش نہ کرنا چاہیے۔ جیسے جناح صاحب نے جامعہ کی جوبلی میں شرکت کر لی تو مجھے ہمیشہ باوضو رہنا چاہیے۔

ترقی پسندی فن اور شرافت میں بالضرور موجود ہوتی ہے بلکہ فن اور شرافت ترقی پسندی سے عبارت ہی ہے، مستثنیات سے قطع نظر یہ جماعت جسے ترقی پسند کہتے ہیں Primitive Instinctsکے ابھرنے اور اس کو اپنے آپ میں (دوسروں میں نہیں) پنپنے دینے اور اس سے تھوڑی دیر کے لیے لذت اندوز ہونے کے مواقع ملنے کو ترقی پسندی کہتے ہیں جس طرح آج کل کے بے ہودے اسلام کا نام لے کر اپنی بے ہودگیوں کی مکافات سے بچنے کی طرح طرح کی تدبیریں کرتے رہتے ہیں، آپ دیکھتے ہوں گے کہ اسلام کا نام لیا ہی اس لیے جاتا ہے کہ ہر طرح کی غیر اسلامی حرکتوں پر پردہ پڑا رہے یا اس کی مدافعت ہوتی رہے، اسی لیے تو بعض دفعہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے سے بھی نفرت ہونے لگی ہے، کیا ہو اگر اس سلسلے میں مجھے غالب سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں۔ آپ کو تو اس سے انکار نہ ہوگا کہ مجھے اچھی چیز اور بڑی بات ہمیشہ پسند آتی ہے، ترقی پسندی اور کسے کہتے ہیں۔

غالب کی عظمت ترقی پسندوں کے ریزولوشن کی محتاج نہیں ہے، عظمت کسی لیبل کی محتاج نہیں ہوتی، لیبل خود عظمت کا محتاج ہوتا ہے، اشعار کی صوفیانہ تعبیر سے اشعار کی قدر و قیمت میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ اکثر تعبیر کرنے والے کی ذہنی الجھن اور بے مایگی ظاہر ہوتی ہے، جیسے انیسویں صدی کے آخر میں سید امیر علی اور اس قبیل کے بعض اور لکھنے والے یورپ کی تمدنی خرابیوں میں (جو اس وقت بڑی محکم اور برگزیدہ سمجھی جاتی تھیں)، اسلام کی کی برکتیں ڈھونڈ نکالتے تھے۔ غالب کو اپنانے میں ترقی پسند جماعت کی ذہنیت بھی اسی قسم کی ہے، لیکن ان ساری باتوں کے لکھ جانے سے میرا مقصد ہر گز یہ نہیں ہے کہ میں ترقی پسندوں سے خار کھائے بیٹھا ہوں اور ان کے نام سے چِڑھتا ہوں، اس طرح کی حرکت صرف مولوی کر سکتا ہے، جو ترقی پسندوں سے بھی گیا گذرا ہے۔ ترقی پسندوں کو غالب کے قریب جانے دیجئے، یہ آثار امید افزا ہیں، کیا تعجب غالب کی برگزیدگی ان کو بھی برگزیدہ بنا دے، اور وہ دن یقینا بڑا مبارک دن ہوگا۔ (ش)

________________________________________________________

ریاض صاحب (مرحوم ریاض الرحمن شروانی صاحب) کا ارشاد تھا کہ: مضمون نگار نے اہل فکر میں رشید احمد صدیقی سے قبل صرف غالب اور اقبال کو نامزد کیا ہے، ایسا کیوں؟ اور ان کے معاً بعد رشید احمد صدیقی کا نام دیا ہے، یعنی بیچ میں یا رشید صاحب کے آس پاس اور کوئی نام نہیں، ایسا کیوں؟ سرور صاحب کے یہاں یہ ترتیب غالب،شبلی، اقبال اور مولانا آزاد تھی، جبکہ ہمارے یہاں ترتیب یوں ہوتی: غالب، سرسید، شبلی، اقبال اور آزاد۔ مزید بر آں اس ترتیب میں ہم رشید احمد صدیقی کو تو کہیں نہیں رکھ سکتے!

٭٭٭



25 views

Phone:  +91 612 2678109

Postal Address: Khuda Bakhsh Library Oeriental Public Library, Ashok Rajpath, Patna-800004 (Bihar) India

©2020 by Khuda Bakhsh Oriental Public Library Patna.