خدا بخش لائبریری کی یہ فہرست مطبوعات

خدا بخش مطبوعات (KBL Publications)  کی یہ فہرست ان موضوعات میں تقسیم کی گئی ہے، جن سے متعلق پر لائبریری نے کتابیں شائع کی ہیں۔

یہ موضوعات کیا ہیں، ان کی ایک صفحہ بھر میں سمٹی فہرست کی فہرست بنادی گئی ہے، اور انھیں  موضوعات کی ابجدی فہرست بھی۔

خدا بخش کی  یہ مطبوعات اپنی جگہ خود ایک منتخب لائبریری Mini-Library کی حیثیت رکھتی  ہیں، اس لئے ہم اس کی فہرست بنانے بیٹھے تو موضوع وار تقسیم کرنے میں زیادہ دیدہ ریزی سے کام لیا، تاکہ پڑھنے والوں کو اپنا مطلوبہ مواد تلاش کرنے میں سہولت رہے اور وقت بچے۔

 اس میں مصنف انڈیکس کا بھی اضافہ اس لئے کیا جا رہا ہے کہ اسکالر کو ایک اور سہولت بھی مہیا کر دی جائے، یعنی کسی کو کسی خاص مصنف کی تلاش ہو تو وہ بآسانی اس تک پہنچ جائے۔

یہ مِنی لائبریری منتخب ترین موضوعات پر بہترین مطبوعات کا ایک ایسا ذخیرہ ہے جسے ہر صاحب ذوق اور ہر ادارہ ایک الگ سیکشن بناکر بھی رکھ سکتا ہے، تاکہ اس کی ایک امتیازی شخصیت بھی پہنچان میں آسکے۔اور اس  مختصر / منتخب مِنی لائبریری کو  ذوق  شوق سے پڑھا جا سکے۔  جس کا  مطالعہ کرتے کرتے آپ کو چار سال پانچ سال کی مدت درکار ہوگی۔

اس ذخیرے  کی فہرست کی خصوصی پہچان کے لئے جو امتیازات قابل ذکر ہیں ان میں    سے ایک  تو،   دو سو   مجلدات کی صورت میں خدا بخش لائبریری جرنل ہے، جن کا وقفہ ۱۹۷۷ء سے ۲۰۲۰ء  تک پھیلا ہوا ہے۔ ان ہزاروں صفحات پر مشتمل اس جرنل کے سارے شماروں کا ایک انڈیکس / اشاریہ بھی لائبریری نے تیار کر دیا ہے، جو تین حصوں پر مشتمل اس فہرست میں شامل ہے۔ دوسرامتیاز اس لائبریری کی خصوصی توجہ والے موضوعات ہیں جو خدا بخش لائبریری کے کیریکٹر/ اتھاس (Character & Ethos) سے مطابقت رکھتے ہیں۔ یہ فہرست مطبوعات جو آپ کے ملاحظہ کے لئے پیش ہے، جیسا کہ مذکور ہوا۔ یہ خدا بخش کی طرف سے ایک مِنی لائبریری پیش کرنے کی طرف ایک    اقدام ہے۔  موضوعات جن کا ذکر ہوا اس کی تھوڑی سی تفصیل کرتے چلیں:

مخطوطات:  خدا بخش اپنے مخطوطات کے لئے دنیا میں مشہور ہے، اس لئے اہم کتابخانوں میں موجود مخطوطات کی فہرستیں،  مخطوطات پر مقالات اور مدون کردہ اہم مخطوطات کی اشاعت ہماری پہلی ترجیح رہی۔ ان میں اہم ترین ہیں ، مخطوطات بنارس کی تاریخ و تہذیب  پر علی ابراہیم خاں خلیل (شیخ پورہ، منگیر) کے مکتوبات جو انہوں نے ہندستان کے اہم راجاؤں، مہا رانیوں، نوابین، انگریز منتظمین (گورنر جنرل وغیرہ) کو لکھے تھے۔ پھر، بنارس کے مہاراجہ چیت سنگھ کی سوانح؛ اور میسور کی تاریخ سے متعلق سلطان حیدر علی کی سوانح۔ یہ غیر مطبوعہ اہم مخطوطات  لائبریری نے پہلی بار شائع کرکے تاریخی مخطوطات پر ایک اہم کام کیا۔ اسی طرح سفرنامۂ بہبہانی بعنوان مرآۃ جہاں نما بھی ایک آنکھوں دیکھا حال   ہے، جو اٹھارہویں صدی  کے اواخر   اور انیسویں صدی کے اوائل کے ہندستان  کو ایک مشہور ایرانی مجتہد نے جیسا دیکھا ، اسکی  ایک اہم معاصر    دستاویز ہے۔

خدا بخش نے تصوف کی ایک انسائیکلوپیڈیائی فہرست بھی تو تیار کر دی ہے، تصوف/صوفیہ پر گلزار ابرار کے مخطوطے کی اشاعت  آپکی توجہ اپنی طرف  کھینچے گی۔  اسی  طرح   دو  قدیم  ترین نسخوں   کی  عکسی اشاعتوں  کا بھی  ذکر  کر دیں   ۔یعنی حضرت منیری  کے مکتوبات صدی      کا قیمتی نسخہ،  اور دوسرا سیرت  فیروزشاہی کا   نادر ترین  نسخہ۔ (حضرت منیری کے مکتوبات کا لائبریری نے انگریزی ترجمہ بھی شائع کر دیا ہے)۔

انٹر فیتھ انڈر اسٹینڈنگ یا بین المذاہب مفاہمہ،  خدا  بخش  کے سلسلہ مطبوعات کا بنیادی موضوع رہا، جس کے لئے ہندی الاصل مذاہب پر خصوصی توجہ رہی۔ اس ذیل میں ہندو مت، جین مت، بدھ مت، اور سکھ مت پر متعدد کتابیں آپ اس فہرست میں ملاحظہ فرمائیں گے۔

خدا بخش ذخیرے میں نادر مخطوطات کی   طرح قدیم اردو رسائل کا   بڑا اہم  ذخیرہ  ہے۔   جو   اپنی    اہمیت  میں   خدابخش مخطوطات  ہی کی طرح  تحقیقی کام کرنے والوں   کے لئے خاص  کشش رکھتا ہے۔

   بڑے رسالے جن میں ہماری پوری علمی و ادبی تاریخ محفوظ ہے، جیسے ندیم، الناظر، زمانہ، ہندستانی، العصر، ادیب، وغیرہ سے اہم موضوعات پر اہم ترین تحریریں انتخاب کرکے کئی کئی جلدوں میں شائع  کی گئی ہیں۔

ان رسائل کے انتخابات میں کیسی قیمتی چیزیں آگئیں ہیں، اس  کی مثال  رسالہ زمانہ     سے  منتخبات   جو شایع ہوئے،( جو اس  فہرت  میں شامل ہیں)    کچھ تفصیل دے کر ہم اسکی   وسعت بے کراں کا  تھوڑا    اندازہ کرادیں۔ چار جلدیں تو صرف مشاہیر اردو پر ہیں، دو مشاہیر ہند پر، ایک آدھ آزادی کی تحریک پر، چار چھ جلدیں ہندو مت اور دوسرے ہندی مذاہب پر، ایک عصری جامعات پر، ایک فارسی ادبیات اور ہندی ادبیات پر، سیاسیات ہند پر،ایک ایک جلد علامہ اقبال اور مرزا غالب پر۔ یعنی کہنے کو ایک رسالہ کا انتخاب ہے، لیکن چونتیس جلدوں  میں ایک انسائیکلوپیڈیا فراہم  ہوگئی ہے، یہی صورت حال ندیم، الناظر، اور دوسرے رسالوں کے  منتخبات کی ہے۔

رسائل کے منتخاب میں ایک سلسلہ لائبریری نے یہ بھی چھیڑا کہ ۱۹۹۲ء سے شروع ہوکر تین چار  سال تک معاصر رسائل کے انتخابات بھی شائع کیے جاتے رہے۔ بلکہ بیچ کا سلسلہ تو ٹوٹ ہی گیا، لیکن ۲۰۱۹ء سے یہ سلسلہ پھر شروع ہوگیا۔

تین بڑے موضوعات کو ہم بھولے جا رہے ہیں، یعنی قاضی عبدالودود ،پروفیسر سیدحسن عسکری اور  شبیر احمد خاں غوری۔ تینوں نے تاریخ و تحقیق کے میدان میں جو شاندار کارنامے انجام دیئے ہیں وہ کچھ اس فہرست سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں، جس میں تیس کے قریب قاضی عبد الودود  کی کتابیں اور آٹھ دس عسکری صاحب کے کارنامے (انگریزی اردو دونوں میں) اور علوم اسلامیہ پر    آٹھ جلدیں  غوری صاحب کی  اس فہرست میں آپ کے سامنے آجائیں گے۔ 

ہمارا اگلا ہدف ریفرینس سروس (حوالہ جاتی خدمات) رہا  ہے۔  اس کے لئے   اہم اردو رسائل     کے    اشاریے اس  فہرست میں شامل  ہیں۔ اس خدمت کی انجام دہی کے لئے خدا بخش لائبریری خصوصی طور سے معروف ہوگئی ہے۔ اور اس ذیل میں درجن بھر سے اوپر کتابیں آپ کو اس فہرست میں ملیں گی۔

ہماری تہذیبی تاریخ کے لئے پانچ بڑے اکابر  یعنی سرسید، غالب، اقبال،   مولانا آزاد  اورڈاکٹر ذاکر حسین جن کے ناموں سے آپ سب مانوس ہیں،  ان کی، یا ان  پر خدا بخش لائبریری نے  اہم  کتابیں شائع  کیں ہیں جو اس فہرست میں شامل ہیں۔

اسلام اور  علوم اسلامیہ ، خاص کر  تصوف   سے دلچسپی رکھنے والوں کو ،  اس  فہرست میں متنوع قسم کی  کتابیں مل جائیں گی۔ خاص کر حضرت شرف الدین منیری پر/کی  لائبریری نے انگریزی اردو ودونوں زبانوں میں متعدد کتابیں شایع کیں۔

 تاریخ ، خاص کر تاریخ ہند، اور     گنگا جمنی کمپوزٹ کلچر   پر   اس فہرست میں  اچھی  کتابیں ملیں گی۔  ساتھ ہی اکابر ہند اور  مشاہیر ادب اردو پر      بھی قابل ذکر  مطبوعات دیکھی  جا سکتی ہیں۔

علوم و ادبیات سے شغف  رکھنے والوں کے لئے ،اس فہرست   میں دلچسپی  کا کافی سامان ہے۔   اور دوسرے   متعلقہ موضوعات  پر بھی     ایک سنجیدہ قاری کو ہمیں  ، امید ہے   یہ  فہرست  دیر تک اپنے میں منہمک رکھکر  ، خاصی مسرت  کا سامان مہیا کرے گی۔

اور کتاب کیسی بڑی نعمت ہے اس کے بارے میں تو شیراز کا حافظ غضب کی بات کہہ گیا ہے کہ:

’’اگر فراغت ہو، اطمینان قلبی ہو،  سیاست نہ ہو، چھل فریب نہ ہو، شرافت اور انسانیت کے ساتھ جینے کا مزاج ہو۔۔اور خدا بخش جیسا گوشۂ چمن ہو ۔۔ پھر ، ایسے میں کوئی پڑھنے لائق کتاب میسر آجائے تو، دنیا میں جنت مل گئی!‘‘

فارسی کا اصل مصرعہ بھی سن لیجئے:  فراغتے و کتابے وگوشۂ چمنے !

 (ش)

 ڈائریکٹر، خدا بخش لائبریری، پٹنہ

توجہ فرمائیں

  1. ادائیگی بذریعہ کیش، منی آرڈر یا بینک ڈرافٹ بنام ڈائریکٹر خدا بخش لائبریری پٹنہ کی جاسکتی ہے۔

  2. غیر ممالک کے لئے کتابوں کی قیمت ہندوستانی قیمت کی تین گونی قیمت ہوگی۔

  3. کتاب پر اس کالے نکتہ (—) کا مطلب ہے کہ وہ کتاب اسٹاک سے ختم ہوچکی ہے، اب دوسرے طباعت کے مرحلے سے گزرے گی۔

For Kind attention :

  • Payment to be made by Cash/MO/Bank Draft in favour of Director Khuda Bakhsh Library Patna.

  • Buyers out side India are to be charged 3 times as against the price charged in India.

  • A Dot (·) means the book is not presently available; hoped to be shortly published.

Address for correspondence : 

Khuda Bakhsh Oriental Public Library, Patna-800004

Email:

kboplibrary@gmail.com

Websites 

https://www.kblpublications.com; 

http://kblibrary.bih.nic.in

Bank Details

     Account No.       :   38206449429

     Name of Bank    :   State Bank of India

     Name of Branch:    Chauhatta, Patna

     IFSC Code         :   SBIN0003113

Phone:  +91 612 2678109

Postal Address: Khuda Bakhsh Library Oeriental Public Library, Ashok Rajpath, Patna-800004 (Bihar) India

©2020 by Khuda Bakhsh Oriental Public Library Patna.